اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمنی اپوزیشن جماعتوں کی شوری کے سربراہ محمد زيد جمعہ، نے يونائٹڈ پریس انٹرنیشنل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جنگ کا تقاضا ہے کہ ہر مسلمان اور ہر عرب شہری حوثیوں کے قتل عام بند کرانے کے لئے مداخلت کرے اور خطے پر سایہ فگن جنگ کے خطرات کا خاتمہ کرنے میں کردار ادا کرے۔
انھوں نے کہا: یمن کے شمال میں رونما ہونے والے واقعات سے جنگ کے آثار ملتے ہیں مگر صلح کے سلسلے میں کوئی بھی خبر قابل تصدیق نہیں ہے اور ہر یمنی اور عرب و مسلم شہری کا فرض بنتا ہے کہ اس جنگ کے خاتمے کے لئے اقدام کرے اور خطے کو مشکل میں ڈالنے والے مسئلے کے حل کی کوشش کرے اور سب کو جان لینا چاہئے کہ اس جنگ کی پوری ذمہ داری یمن کے حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا: ہمارا سعودی عرب سے مطالبہ ہے کہ ہمارے موقف کا ادراک کرے اور اگر اسے کوئی خوف یا تشویش ہے تو ہم اس سلسلے میں ہرگونہ وضاحت کے لئے تیار ہیں۔
انھوں نے کہا: یمن اور ایران کے درمیان کوئی مشترکھ سرحد نہیں ہے چنانچہ ایران ہمارے لئے ہتھیار نہیں بھیج سکتا جبکہ سعودی عرب ہمارا پڑوسی ہے اور علی عبداللہ صالح نے ایران کی جانب سے ہماری امداد کا دعوی کرکے سعودی عرب اور مغرب کو خائف کرنے کی کوشش کی ہے۔
زید نے مزید کہا: یہ درست ہے کہ ہمارے اور سعودی عرب کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور یہ جھڑپیں جاری ہیں لیکن حملہ سعودیوں نے کیا ہے اور ہم اپنا دفاع کررہے ہیں اور اپنے بے گناہ شہریوں کا قتل عام روکنے کے لئے ہر وسیلے سے استفادہ کرتے ہیں۔
دریں اثناء الحوثی تحریک کی ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی افواج یمن پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ دسیوں کلومیٹر اندر الرازح کے علاقے تک کو بموں اور توپوں کا نشانہ بنا رہے ہیں؛ اور سعودی فضائیہ اور توپخانے کے حملے "ملاحيط "، "شدا "، "حصامہ " اور سرحدی دیہاتوں پر جاری و ساری ہیں۔
انھوں نے کہا: ملاحیط کے علاقے میں "المنازلہ " کے محاذ پر یمنی افواج کا ایک بھاری حملہ ناکام بنادیا گیا ہے اور مجاہدیں نے بڑی مقدار میں سرکاری ہتھیاروں پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ اس جھڑپ میں یمنی افواج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دوسری طرف سے یمنی افواج نے صعدہ شہر کے محاذ "آل عقاب " میں شیعہ مجاہدین پر حملہ کیا اور یہ حملہ بھی ناکام بنادیا گیا اور وسیع مقدار میں غنیمتیں مجاہدین کے ہاتھ لگیں۔
انھوں نے کہا کہ محاذ جنگ پر پیدل حملے رک گئے ہیں مگر توپخانے اور فضائیہ کے حملے جاری ہیں۔
الحوثی تحریک نے انٹرنیٹ پر چھ ویڈیو رپورٹس نشر کی ہیں جن میں انھوں نے یمن پر سعودی حملوں، یمن کے پناہ گزینوں، اور یمنی فوجیوں کی گرفتاری کی تصاویر درج کی ہیں۔